اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ درعا اور قنیطرہ میں مسلح ٹولے شکست سے دوچار ہوئے ہیں اور ان کے پاس مصالحت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے؛ شام کے جنوب میں ہم ایک بڑی کامیابی کے قریب ہیں۔
انھوں نے الحدیدہ کی لڑائی کے بارے میں کہا: الحدیدہ کے واقعات فوجی نقطہ نظر سے ایک معجزے سے کم نہیں ہیں۔ سعودی اتحاد کئی مہینوں سے الحدیدہ کی جنگ کے لئے تیاریاں کررہا تھا، لیکن ابتداء ہی میں شکست کھا گیا۔ الحدیدہ کی جنگ ایک بڑا سبق ہے جس کو لبنان، فلسطین اور شام کی حصولیابیوں کے ساتھ ملا لینا چاہئے۔ مجھے امید ہے کہ بنی سعود اور بنی نہیان اس جنگ سے عبرت حاصل کریں۔ ریاض اور ابوظہبی کو جان لینا چاہئے کہ انہیں ایک ناقابل شکست قوم کا سامنا ہے۔
شامی افواج کی بڑی کامیابی
14 اپریل 2018 کو دہشت گردوں کے قبضے سے غوطہ شرقی ـ بالخصوص شہر دوما ـ کی آزادی اور اس کے چھ دن بعد یرموک کیمپ اور حجر الاسود کی آزادی اور اس سے داعش اور دوسرے دہشت گرد ٹولوں کے قبضے سے قبل الرقہ، دیر الزور اور مشرقی حلب کی آزادی کے بعد شامی افواج صوبہ درعا سمیت ملک کے جنوبی علاقوں کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کی کوشش کررہی ہیں۔
جنوب میں درعا اور قنیطرہ کے صوبے تزویری لحاظ سے بہت زیادہ اہم ہیں؛ یہ علاقے دارالحکومت دمشق کے قریب اور مقبوضہ جولان کے ساتھ واقع ہیں یا یوں کہئے کہ مقبوضہ جولان ان ہی صوبوں کا حصہ ہے جس پر یہودی ریاست نے قبضہ کررکھا ہے۔
فری سیرین آرمی، داعش اور تحریر الشام (جبہۃ النصرہ) نیز بعض دوسرے دہشت گرد ٹولے درعا اور دو پڑوسی صوبوں "سویداء اور القنیطرہ" میں موجود ہیں جن کی تعداد 31000 تک بتائی جاتی ہے۔
شامی افواج اردن کے ساتھ اپنے سرحدی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہیں اور جنوبی شام کی آزادی سے اس علاقے میں غیرجانبدار خطہ قرار دینے کا امریکی اور یہودی خواب چکنا چور ہوجائے گا۔ (1)
جنوبی شام حالیہ ایام میں شامی افواج اور دہشت گردوں کے درمیان اہم ترین میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس علاقے کی اہمیت کا اصل سبب یہ ہے کہ یہ یہودی ریاست کی سرحد پر واقع ہے۔ یہودی ریاست کی پوری کوشش ہے کہ شامی افواج اس علاقے تک نہ پہنچ سکیں۔ اس لحاظ سے صہیونیوں نے کئی برسوں سے یہاں موجود دہشت گردوں کی ہمہ جہت عسکری اور مالی مدد کرکے انہیں اپنے سرحدی محافظوں میں تبدیل کردیا تھا لیکن حالات بدل رہے ہیں۔
شامی افواج نے کچھ عرصے سے جنوبی علاقوں کی آزادی کے لئے اپنی کاروائی کا آغاز کیا ہے۔ یہ کاروائی اس وقت شروع ہوئی جب دہشت گردوں نے مصالحت سے انکار کیا۔ اس کاروائی میں اب تک درعا اور سویداء 50 قصبے اور دیہی علاقوں کو آزاد کرا لیا گیا ہے جس کی بنا پر مبصرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ٹولے مصالحت کی طرف مائل ہوچکے ہیں۔ ادھر ترکی کی آناتولی خبر ایجنسی نے صہیونی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ شامی افواج کی مسلسل کامیابیوں کی وجہ سے یہودی ریاست نے جولان کی پہاڑیوں میں اپنے دستوں کو الرٹ کردیا ہے۔ گوکہ شامی افواج کے ساتھ براہ راست تصادم کا امکان نہیں ہے لیکن یہودی ریاست شامی افواج کی کاروائیوں کے ممکنہ بالواسطہ اثرات کا سامنا کرنے کی تیاریاں کررہی ہے؛ کیونکہ صوبہ درعا اور مقبوضہ فلسطین کا درمیانی فاصلہ صرف 60 کلومیٹر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شامی افواج اپنی جنوبی علاقوں میں ایک عظیم کامیابی رقم کر رہی ہیں۔
الحدیدہ میں انصار اللہ کا معجزہ
یمن کے جاری بحران کو تین سال سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد الحدیدہ بندرگاہ میں انتہائی شدید لڑائی ہورہی ہے کیونکہ یہ بندرگاہ انصاراللہ اور اس کے حلیفوں کے لئے اہم ترین بندرگاہ ہے اور اگر سعودی اتحاد اس کا کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہوجائے تو صنعا کو ہتھیار ڈالنے کے لئے کئی گنا زيادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی بنا پر اس اتحاد نے سابق سفاک یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت کے دو مہینے بعد اس بندرگاہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔
الحدیدہ پر قبضہ کرنے کے لئے سوڈان کے کرائے کے فوجیوں، امارات کی افواج، امارات کے حمایت یافتہ طارق صالح کی فورسز، نیز امریکی، صہیونی اور سعودی طیاروں ایک ہی وقت میں الحدیدہ پر حملہ کیا۔ اس کاروائی کو انھوں نے سنہری فتح (النصر الذهبی یا Golden victory) کا نام دیا۔ ابتدائی ایام میں سعودی اتحاد امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کے باوجود الحدیدہ میں کوئی پیشقدمی نہ کرسکا، یہی نہیں بلکہ انصار اللہ نے فرانس کی ایک جہاز پکڑ لیا اور امارات کا ایک جہاز ڈبو دیا۔ جبکہ اس وقت جارح قوتیں الحدیدہ کی باتلاق میں پھنس گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی، نہیانی، برطانوی، فرانسیسی، امریکی - یہودی اور مختلف ممالک سے لائے گئے غیرملکی کرائے کے قاتل اور القاعدہ جیسے دہشت گرد ٹولے سب مل کر بھی کوئی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام اور یمن کے انقلابیوں کے عزم کے آگے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور نظر آرہے ہیں۔
حال ہی میں عین لڑائی میں بنی سعود کے اتحاد کا ایک یمنی کمانڈر "احمد محمد عبدہ زید" یمن کی سلامتی سے متعلق ادارے اور انصار اللہ کے آگے ہتھیار ڈال کر ملت کی آغوش میں پلٹ آیا اور کہا: جو تصاویر اور ویڈیوز اور رپورٹیں انصار اللہ کے ذرائع ابلاغ کی طرف سے جارح اتحاد سے وابستہ یونٹوں کی ناکامیوں اور تباہیوں کے سلسلے میں نشر ہورہی ہیں وب بالکل درست ہیں جبکہ بنی سعود کے اتحاد سے وابستہ ذرائع صرف جھوٹ بول رہے ہیں اور ان کی طرف سے کامیابی کے دعوے سو فیصد بےبنیاد ہیں۔ وہ خیالی فتوحات کی رپورٹیں دے رہے ہیں اور الحدیدہ کی جنگ میں سعودی اتحاد کا جانی اور مالی نقصان انصار اللہ کا معجزہ ہے۔'
اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین ہفتوں کے دوران 300 فوجی اور بکتر بند گاڑیاں مغربی یمنی ساحلی علاقے میں انصار اللہ کے ہاتھوں تباہ ہوچکی ہیں۔ ان میں وہ فوجی وسائل شامل نہیں ہیں جو یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں میں تباہ ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں گذشتہ 23 دنوں کے دوران یمنی افواج اور انصار اللہ کے ڈرون اور میزائل حملوں میں جارح دشمن کے اعلی کمانڈروں سمیت 1332 کرائے کے فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یمنی افواج اور انصار اللہ کی ڈرون اور میزائل یونٹوں نے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران 6 بڑی کاروائیاں کی ہیں اور مغربی ساحلوں میں تعینات جارح افواج کو 12 بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بنی سعود کا اتحاد الحدیدہ کی جنگ میں بھی غلط اندازوں اور غلط تخمینوں سے دوچار ہوا جیسا کہ آج سے ساڑھے تین سال قبل بھی اس نے غلط اندازے لگا کر اس نے یمن پر ہلہ بول دیا تھا۔ سعودی اتحاد نے یہ کہہ کر جنگ کا آغاز کیا تھا کہ صرف چند ہی ہفتوں میں اس کا پرچم صنعا میں لہرائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور سعودی اور امارات اور ان کے حلیف یمن کی دلدل میں پھنس کر رہے گئے ہیں؛ الحدیدہ پر حملے سے پہلے بھی انھوں نے ویسی ہی غلطی دہرائی۔ سعودی اتحاد کا تصور یہ تھا کہ الحدیدہ بندرگاہ ایک کھلے صحرا میں واقع ہے اور دشوارگذار نہیں ہے چنانچہ مختصر سی مدت میں اس بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کیا جاسکے گا اور پھر صنعا کی طرف پیشقدمی کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوگی اور پھر مغربی ممالک اور یہودی ریاست کی مدد سے سنہری فتح (النصر الذهبی یا Golden victory) نامی کاروائی کا آغاز کیا۔ لیکن گذشتہ تین ہفتوں کے دوران سعودی اتحاد کے مورچوں تک جانے والے تمام راستے انصار اللہ اور یمنی افواج کے کنٹرول میں ہیں اور سعودی اتحاد کے بہت سے دستے پسپا ہوچکے ہیں۔ چنانچہ اب اقوام متحدہ ـ جس نے بنی سعود کی وکالت کا بیڑا اٹھایا ہے ـ الحدیدہ کو غیرجانبدار علاقہ قرار دینے کی کوشش کررہی ہے۔ بےشک انصار اللہ کے مجاہدین مقامی ساختہ ہتھیاروں کے ذریعے پانچ ملکی اتحاد بمع یہودی ریاست اور کرائے کی افواج، کو الحدیدہ میں شکست دی ہے اور یہ مزاحمت فورسز کے لئے ایک معجزہ ہے۔
نتیجہ
مغربی ایشیا کا علاقہ فیصلہ کن تجربے سے گذر رہا ہے۔ یمن اور شام میں اس وقت مزاحمت تحریک کے دشمن اپنی بنی بنائی شکست کی دلدل سے بھاگنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ علاقے کے موجودہ حالات ایک بڑے منصوبے یعنی "صدی کی ڈیل" یا "ٹرمپ کی ڈیل" کی طرف جارہے ہیں۔ سید حسن نصراللہ اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ جو کچھ شام میں ہورہا ہے اور یہ جو امریکہ ایٹمی معاہدے سے خارج ہوچکا ہے، اور ایران اور اس کے تیل پر پابندیوں کی دھمکیاں آرہی ہیں یہ سب صدی کی ڈیل کے سلسلے میں امریکی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کا امریکی انداز سے حل کرنا ہے۔ لگتا ہے کہ ٹرمپ ـ بن سلمان ـ نیتن یاہو اتحاد ٹرمپ ڈیل کو بہرصورت نافذ کرنا چاہتا ہے۔ ان ابلیسی کھلاڑیوں نے عالم اسلام کے احتجاجات پر قابو حاصل کرنے کے لئے الحدیدہ کی جنگ، امریکہ کے ایٹمی معاہدے سے خارج ہونے اور جنوبی شام کے علاقے کی جنگ جیسے مسائل کو رائے عامہ کے انحراف کی حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔
گوکہ یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ ڈیل امریکہ اور یہودی ریاست کے دوسرے منصوبوں کی طرح نتیجہ خیز ثابت نہيں ہوسکے گی۔ اس سلسلے میں امریکی رسالے "فارن پالیسی" نے ٹرمپ ڈیل کو ایک شکست خوردہ منصوبہ قرار دیا ہے اور شاید اسی بنا پر امریکہ بنی سعود، بنی نہیان، بنی خلیفہ (بحرین پر مسلط قبیلہ) نیز اردن پر دباؤ بڑھا کر انہیں اس منصوبے کا ساتھ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کیونکہ اس منصوبے کا نفاذ فلسطین کے اندر ایک عظیم دھماکے کے مترادف ہوگا اور گو کہ مغربی تخمینوں کے مطابق "2025 میں یہودی ریاست زوال پذیر ہوجائے گی، لیکن ٹرمپ ڈیل کے نتیجے میں اس طرح یہ پیشنگوئی 2025 سے پہلے ہی وقوع پذیر ہوگی۔
آخری بات:
سید عبدالملک حوثی الطباطبائی نے ایم بی ایس کے نام اپنے پیغام میں فرمایا:
یابن سلمان! سمندر تیرے ساتھ ہے، فضا تیرے ساتھ ہے، زمیں تیرے ساتھ ہے، دولت تیرے پاس ہے، امریکہ اور اسرائیل تیرے ساتھ ہیں لیکن تو کامیاب نہیں ہوسکا!!!
جان لو علم یقین تک پہنچو کہ اللہ تیرے ساتھ نہیں ہے اور کامیابی صرف اور صرف اللہ کی طرف سے ہے
وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللّهِ؛ اور فتح و ظفر نہیں ہے مگر اللہ کی طرف سے۔ (انفال، 10)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: محمدرضا کَلہُر
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
3 جولائی 2018 - 13:54
News ID: 900271
سید حسن نصراللہ نے حالیہ خطاب میں شام کے جنوب میں شامی افواج اور یمن میں انصار اللہ کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کیا۔ شام کے بارے میں انھوں نے کہا: ذرائع ابلاغ کی زبان سے نکلے الفاظ سے مسلح جماعتوں کی شکست ہی سمجھ آتی ہے / سعودی اتحاد یمن کے مغربی ساحل پر، کاروائی شروع کرتے ہی ناکام ہوگیا۔